تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے بعض کردار اپنی آواز کی بلندی سے نہیں، اپنے عزم کی گہرائی سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ شہرت کے تعاقب میں نہیں نکلتے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کا کردار خود تاریخ کی آواز بن جاتا ہے۔ فرزندِ عترت و قرآن، مردِ علم و عرفان، صاحبِ بصیرت و ایمان، سالارِ فکر و میدان، علم بردارِ قدس و مقاومت، پیکرِ وفا و ایثار، پیروِ مکتبِ کربلا و شہادت شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی اسی قافلے کے ایک مسافر تھے۔ جنوبی لبنان سے نجف و قم کے علمی مراکز تک، وہاں سے اسلامی تحریک کے میدانِ عمل تک اور بالآخر بیروت کی خاک میں شہادت تک، ان کا سفر ایک ایسے دینی و سیاسی رہنما کی داستان ہے جس میں علم، بصیرت، ذمہ داری اور قربانی ایک مسلسل فکری و عملی سفر کی صورت اختیار کرگئے۔
1964ء میں جنوبی لبنان کے علاقہ دیر قانون النہر میں ایک معروف دینی خاندان میں پیدا ہونے والے شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا تعلق ایسے خانوادے سے تھا جس نے لبنان کی دینی و اجتماعی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ شہید مقاومت علامہ سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں کے درمیان خاندانی قرابت کے ساتھ طویل علمی و عملی رفاقت بھی قائم رہی۔ دونوں نے حوزوی تعلیم کے مراحل طے کئے اور بعد میں لبنان کی اسلامی تحریک کے مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے رفیق رہے۔
ان کی شخصیت کی فکری بنیاد حوزۂ علمیہ میں استوار ہوئی۔ نجف نے انہیں شیعی علمی روایت سے جوڑا، جبکہ قم نے ایسے دور میں ان کے فکری افق کو وسعت دی جب انقلابِ اسلامی کے بعد دین، سیاست، امت، استعمار اور مزاحمت کے سوالات نئی معنویت اختیار کرچکے تھے۔ حوزۂ علمیہ نے انہیں یہ شعور دیا کہ دینی علم محض درس و تدریس تک محدود نہیں؛ اپنے عہد کو سمجھنا، اجتماعی ذمہ داری کو محسوس کرنا اور حق و باطل کی کشمکش میں اپنا موقف متعین کرنا بھی عالمِ دین کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
1994ء میں قم سے لبنان واپسی کے بعد انہوں نے حزب اللہ میں مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور طویل عرصہ تک مجلسِ تنفیذیہ کی سربراہی کی۔ ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ تنظیمی نظم، ادارہ جاتی استحکام اور داخلی امور تک پھیلا ہوا تھا۔ ان کی قیادت کا نمایاں پہلو خطابت سے زیادہ ادارہ سازی، نظم و ضبط اور ذمہ داری تھا۔
شہید مقاومت علامہ سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ان کی رفاقت بھی اسی سفر کا اہم باب ہے۔ شہید علامہ سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ مزاحمت کی عالمی سطح پر نمایاں آواز بنے، جبکہ شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے تنظیمی اور داخلی امور میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک کی آواز میدان میں گونجتی رہی تو دوسرے کی محنت نے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں حصہ لیا۔ یوں دونوں کی رفاقت نے قیادت کے دو مختلف مگر باہم مربوط پہلوؤں کو نمایاں کیا۔
ان کے فکری مزاج کا ایک اہم پہلو ان کی تحریروں میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے شہداء کی زندگیوں، ادبِ مقاومت اور جدوجہد کی یادداشت کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ان کے نزدیک مزاحمت صرف میدانِ جنگ کا نام نہیں تھی؛ قلم، حافظہ، شعور اور تاریخ بھی کسی قوم کی جدوجہد کو زندہ رکھنے کے وسائل ہیں۔
فلسطین اور قدس بھی اسی فکری منظرنامہ کا مرکزی حصہ تھے۔ قدس ان کے لئے محض ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ آزادی، مظلومیت اور امت کے اجتماعی ضمیر کی علامت تھا۔ حضرت امام خمینی قدس سرہ کی فکر میں فلسطین و قدس کی مرکزی حیثیت اور انقلابِ اسلامی کے فکری اثرات نے لبنان کی مزاحمتی نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، اور شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اسی فکری تسلسل کے نمایاں نمائندوں میں شمار ہوتے تھے۔
ان کے فکری سفر میں اسلامی قیادت اور مزاحمت ایک دوسرے سے جدا تصورات نہیں تھے، بلکہ ایک مربوط فکری تصور کے اجزا تھے۔ قم کی علمی تربیت، لبنان کی زمینی حقیقت اور فلسطین کی جدوجہد نے ان کے سیاسی و اجتماعی شعور کو تشکیل دیا۔ اسی لئے ان کے نزدیک تحریک محض جذباتی ردِعمل نہیں، بلکہ فکر، نظم، مقصد اور ذمہ داری کے ساتھ وابستگی کا نام تھی۔
مگر کسی فکر کی حقیقی آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب انسان کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے۔
27 ستمبر 2024ء کو شہید مقاومت علامہ سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کے بعد شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نام حزب اللہ کی ممکنہ آئندہ قیادت کے حوالے سے نمایاں ہوا۔ تاہم اس امکان کو عملی صورت اختیار کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ 29 ربیع الاول 1446ھ، مطابق 3 اکتوبر 2024ء کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقہ میں اسرائیلی حملے میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ان کی شہادت کی خبر کئی دن تک حتمی تصدیق سے محروم رہی، یہاں تک کہ حزب اللہ نے 23 اکتوبر 2024ء کو باضابطہ طور پر ان کی شہادت کی تصدیق کردی۔
یہ تاریخ کا ایک دردناک موڑ تھا۔ ایک قائد کی شہادت کے بعد جس شخصیت کو آئندہ قیادت کے لئے نمایاں سمجھا جارہا تھا، وہ خود بھی اسی قافلے میں شامل ہوگئی۔ یوں قیادت کا سوال شہادت کے سوال میں بدل گیا۔
قرآنِ مجید شہداء کے بارے میں اعلان کرتا ہے: "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا" اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو ہرگز مردہ نہ سمجھو۔
شہادت کی یہی قرآنی معنویت شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے سفر کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ ان کی زندگی ہمارے سامنے یہ سوال رکھتی ہے کہ علم انسان کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے؟ قیادت محض منصب ہے یا ذمہ داری؟ اور جب اصول کی قیمت ادا کرنے کا وقت آئے تو کیا انسان اپنے دعوے اور اپنے عمل کے درمیان فاصلہ باقی رہنے دیتا ہے؟
آج شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو یاد کرنا صرف ایک شہید رہنما کی یاد تازہ کرنا نہیں، بلکہ اپنے عہد کے انسان کے سامنے ایک آئینہ رکھنا ہے۔ ان کی زندگی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ہم علم کو کس حد تک کردار بناتے ہیں، اصول کو کتنی قیمت دیتے ہیں اور خوف کے مقابلے میں کس قدر ثابت قدم رہتے ہیں۔
اگر شہادت صرف آنکھوں کو نم کرے اور کردار کو نہ بدلے تو ہم نے شہادت کا پیغام نہیں سمجھا۔ شہید کا خون صرف ماتم نہیں مانگتا؛ وہ شعور، وفاداری، استقامت اور عمل کا مطالبہ کرتا ہے۔
یہیں سے شہید سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی داستان سوانح سے آگے بڑھ کر ایک فکری عہد میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
شہید صرف یہ نہیں کہتا کہ میرے لئے آنسو بہاؤ؛ وہ پوچھتا ہے کہ میرے بعد تم حق کے ساتھ کہاں کھڑے ہوگے۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کا نام صرف نعروں میں زندہ رہے؛ وہ چاہتا ہے کہ اس کا مقصد انسانوں کے کردار میں زندہ رہے۔
اسی لئے شہادت کا اصل مفہوم قبرستانوں میں نہیں، زندہ انسانوں کے فیصلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
شہید رخصت ہوتا ہے، مگر اس کے بعد ایک ذمہ داری زندہ رہ جاتی ہے؛ ایک نسل کے ہاتھ سے دوسری نسل کے ہاتھ تک منتقل ہونے والی ذمہ داری کہ حق کو پہچانا جائے، ظلم کو ظلم کہا جائے، خوف کو شکست دی جائے اور اصولوں کو وقتی مصلحتوں کے ہاتھ فروخت نہ کیا جائے۔
شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی کا آخری سبق شاید یہی ہے کہ انسان کی عمر ختم ہوسکتی ہے، مگر اس کا موقف نہیں؛ جسم مٹی میں اتر سکتا ہے، مگر اس کا یقین نہیں؛ آواز خاموش ہوسکتی ہے، مگر سچ کی بازگشت نہیں۔
اور شہادت کی سب سے بڑی معنویت شاید یہی ہے کہ قاتل سمجھتا ہے اس نے ایک انسان کو خاموش کردیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایک فکر، ایک سوال اور ایک عہد کو جنم دے دیا ہے۔
وہ سوال آج بھی زندہ ہے کہ اگر حق کے لئے کھڑے ہونے کی قیمت قربانی ہے، تو ہم اپنے عہد کی قیمت ادا کرنے کے لئے کہاں تک تیار ہیں؟
یہی سوال شہیدوں کو تاریخ کے صفحات سے نکال کر ہمارے آج کے ضمیر تک لے آتا ہے۔
شہید علامہ سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ چلے گئے، مگر ایک راستہ چھوڑ گئے؛ آواز خاموش ہوگئی، مگر پیغام باقی ہے۔ چراغ بجھا نہیں، بلکہ اب اسے اٹھانے والے ہاتھ تلاش کرنے ہیں۔
کیونکہ شہید کی حقیقی یادگار سنگِ مرمر پر لکھا ہوا نام نہیں، زندہ انسان کے کردار میں محفوظ کیا ہوا عہد ہے۔ اور تاریخ صرف ان لوگوں سے نہیں بدلتی جو شہیدوں کو یاد کرتے ہیں؛ تاریخ ان لوگوں سے بدلتی ہے جو شہیدوں کے مقصد کو اپنی زندگی کا عہد بنا لیتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ